20 مارچ 2012 - 20:30

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نۓ ہجری شمسی سال تیرہ سو اکانوے کی آمد کی مناسبت سے اپنے پیغام میں گزشتہ سال کو عالمی ، علاقائي اور ملکی سطح پر واقعات سے لبریز سال قرار دیا اور فرمایا کہ مجموعی طور پر یہ واقعات ملت ایران کے حق میں اور اس کے مقاصد کے حصول کے لۓ ممدومعاون تھے۔

ابنا: رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ برس خطے میں رونما ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ خطے کے بعض ممالک میں ڈکٹیٹروں کی حکومتیں سرنگون ہوئيں ، ان ممالک میں اسلام کی بنیاد پر آئین کی تدوین عمل میں آئی اور ملت اسلامیہ اور ایرانی عوام کا سب سے بڑا دشمن اسرائيل محاصرے کا شکار ہوگیا جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ سنہ تیرہ سو نوے ہجری شمسی ایسے واقعات سے لبریز تھا جنھوں نے خطے کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر بہت جلد ان کا دائرہ دنیا کے دیگر حصوں تک پھیل گيا۔

گزشتہ ایک برس کے دوران ظلم و استبداد نیز اغیار سے وابستگي کے خلاف خطے کی مسلمان اقوام کے قیام کی وجہ سے ان ممالک کے ڈکٹیٹر حکمران یکے بعد دیگرے اقتدار سے محروم ہوتے گۓ اور وحشیانہ طور پر لوگوں کا قتل عام اور ان کی سرکوبی کۓ جانے نیز بڑی طاقتوں کی جانب سے ان کے انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان ممالک کے انقلابی عوام نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ دنیا بھر کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ اور یورپ سے وابستہ حکومتوں کی سرنگونی کے مقصد سے چلائی جانے والی انقلابی تحریکیں ملت ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہیں اور یہ تحریکیں انھی اسلامی اہداف کو حاصل کرنا چاہتی ہیں ، خود مختاری چاہتی ہیں اور صہیونیت کے خلاف جاری ہیں۔

اگرچہ امریکہ اور بعض دوسرے ممالک نے انقلاب کو ہائي جیک کرنے کے ذریعے تیونس ، مصر اور یمن میں پٹھو حکومتوں کی باقیات کی حمایت کر نے کی کوشش کی اور عوام کے انقلاب کا مقصد اقتصادی بدعنوانی سے مقابلہ اور مزید شہری آزادیوں کا حصول قرار دیا لیکن لوگوں کے ووٹوں خاص طور پر تیونس اور مصر کے انتخابات میں ان ممالک کے عوام کے ووٹوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ خطے کے عوام کی یہ تحریکیں خالصتا اسلامی ہیں۔

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ یہ کامیابیاں ملت ایران کے فائدے میں ہیں اور ان سے انقلاب اسلامی ایران کے مقاصد ہی پورے ہوتے ہیں خاص طور پر ان واقعات کے نتیجے میں خطے میں اپنے حامیوں سے محروم ہوجانے کی وجہ سے صہیونی ریاست ملت اسلامیہ کے سب سے بڑے دشمن کی حیثیت سے الگ تھلگ ہوچکی ہے۔ گزشتہ برس یورپی ممالک خصوصا ملت ایران کے دشمن ممالک کے لۓ مختلف مشکلات اور واقعات سے لبریز تھا۔ امریکی حکام کو اس ملک پر حکمفرما سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف وال اسٹریٹ تحریک کا سامنا کرنا پڑا اور اس تحریک کا دائرہ یورپ کے دوسرے ممالک تک پھیل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خطے کو اقتصادی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑا، یورو کی قدر میں کمی آئي اور یورپ مجموعی طور پر مختلف مشکلات سے دوچار ہوا۔

یہی وجہ تھی کہ یورپی ممالک مختلف بے بنیاد بہانوں خصوصا ایٹمی ٹیکنالوجی میں ترقی و پشرفت کے بہانے ایران پر دباؤ ڈالنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی داخلی مشکلات کی وجہ سے ایران مخالف اقدامات کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ جبکہ گزشتہ برس ملت ایران نے اقتصادی میدان میں کامیابیاں حاصل کیں اور انتخابات اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کے مظاہروں میں بھر پور شرکت کر کے اپنی ہوشیاری کا مظاہرہ کیا ۔ ان تمام امور اور واقعات کے پیش نظر بجا طور پر گزشتہ برس کو ملت ایران کی سربلندی اور طاقت کا سال قرار دیا جاسکتا ہے اور گزشتہ برس رہبر انقلاب اسلامی کے بقول خطے کی تاریخ میں قومی اقتدار اور طاقت کا ایسا ریکارڈ قائم ہوا جس کی ماضی میں بہت کم مثال ملتی ہے۔ .......

/169